ایپسٹین اسکینڈل میں نیا موڑ، شہزادہ اینڈریو برطانوی شاہی لاج سے بے دخل

prince-andrew1770188682-0-600x450.webp

ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق تازہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو شاہی لاج سے نکال دیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ نئی دستاویزات میں سامنے آنے والے الزامات کے تناظر میں کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، شہزادہ اینڈریو کے بھائی اور برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس ان الزامات پر شدید تشویش کا شکار ہیں، جس کے بعد اینڈریو کو سینڈرنگھم منتقل کر دیا گیا ہے۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے باعث شاہی خاندان نے فاصلہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا میں ایپسٹین اسکینڈل کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن کانگریس کے سامنے گواہی دینے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

اسی تناظر میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو امریکا آ کر ایپسٹین معاملے پر بیان دیں۔

ادھر برطانوی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ڈیوک آف یارک کے دور میں ایک اور کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر جہاز کے ذریعے برطانیہ لایا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ای میل میں شہزادہ اینڈریو نے جیفری ایپسٹین سے غیر مناسب نوعیت کی بات چیت کی تھی، جسے تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس معاملے پر میٹروپولیٹن پولیس نے برطانوی سیاستدان لارڈ مینڈلسن کے خلاف بھی مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لارڈ مینڈلسن پر الزام ہے کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کو اہم معلومات فراہم کیں، جس کے بعد وہ ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *