کاٹن ایئر 2025-26، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار مقررہ ہدف سے 45 فیصد کم
ملک میں کاٹن ایئر2025-26 کے دوران کپاس کی مجموعی پیداوار کا حجم 1.5فیصدکے اضافے سے 56لاکھ 7ہزارگانٹھوں پرمشتمل رہی، تاہم یہ پیداوار مقررہ ہدف کے مقابلے میں 45لاکھ 93ہزار بیلز (45فیصد)کم رہی ہے۔
پی سی جی اے کی رپورٹ میں دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ و بلوچستان میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں پیداواری ہدف تقریباً 17فیصد کم ہونے کے باوجودوہاں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 7.60فیصد زائدہوناہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر نے کاٹن ایئر2025-26 کیلیے کپاس کامجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ 2لاکھ گانٹھ مقررکیا تھا،جس میں سے پنجاب کیلیے 55لاکھ53ہزارگانٹھ ،جبکہ سندھ وبلوچستان کیلیے 46لاکھ 27ہزارگانٹھ مقررکیاگیاتھا۔
تاہم پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونیوالی زیرتبصرہ سال کی حتمی پیداواری رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران کپاس کی کل پیداوار 56لاکھ 7لاکھ گانٹھ رہی، جوکہ ہدف کے مقابلے میں ریکارڈ 45فیصد کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار 26لاکھ 93ہزار بیلزرہی جوکہ ہدف کے مقابلے میں 28لاکھ 60ہزارگانٹھ (51.50فیصد) کم رہی، جبکہ سندھ و بلوچستان میں اس سال کپاس کی پیداوار29لاکھ 15ہزارگانٹھ رہی جوکہ ہدف کے مقابلے17لاکھ 12ہزارگانٹھ (37فیصد) کم رہی۔
انہوں نے بتایاکہ رواب سال ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 51لاکھ 88ہزار روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی جبکہ برآمدکنندگان نے جننگ فیکٹریوں سے ایک لاکھ 78گانٹھیں خریدیں۔
جننگ فیکٹریوں، برآمد کنندگان،غلہ منڈیوں اور کاشت کاروں کے پاس روئی کی کل ملا کر تقریباً 4لاکھ گانٹھوں کے ذخائرموجود ہوسکتے ہیں، جن میں سے توقع ہے کہ معیاری روئی کے اسٹاکس تقریباً ایک لاکھ 25گانٹھوں کے لگ بھگ ہوسکتے ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ٹیکسٹائل ملوں مالکان کی جانب سے معیاری روئی کی درآمدات میں خاصی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان میں روئی کی درآمد میں متوقع غیر معمولی تاخیر کے باعث اندرون ملک روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان متوقع ہے۔
انہوں نے بتایاکہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے رواں سال روئی کی 40لاکھ سے زائد روئی کی گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر برازیل اور امریکاسے کیے گئے ہیں، تاہم عالمی منڈیوں کے حالات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستانی ملزروئی کی درآمد بارے مزید معاہدے کر سکتے ہیں۔
پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق فروری کے مہینے کے دوران جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 62ہزار 300گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے جوکہ فروری 2025 کی نسبت ریکارڈ 348فیصد زائد ہے۔
جبکہ پنجاب میں اس وقت 67جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ جننگ فیکٹریوں میں ابھی تک کپاس کی آمد جاری ہے اس لیے پی سی جی اے کو چاہیے تھا کہ وہ کپاس کے حتمی پیداواری اعدادوشمار 31مارچ تک کے تین اپریل کو جاری کرتی جس سے کپاس کی پیداوار بارے بہترصورتحال واضح ہوسکتی۔
احسان الحق نے بتایاکہ ایف سی اے کپاس کا پیداواری ہدف 170کلو گرام فی گانٹھ کے حساب سے مقررکرتی ہے ۔
