وزارت خارجہ کی اوورسیز پاکستانیوں کی موجودہ صورتحال اور واپسی سے متعلق بریفنگ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید رفیع اللہ کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت خارجہ نے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی شہریوں کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آذربائیجان میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، 113 پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ 58 پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانیوں سے رابطہ اور معاونت کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح قطر میں تقریباً ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، وہاں صورتحال مستحکم ہے مگر کچھ خدشات برقرار ہیں ۔ ممکنہ انخلا کے لیے 10 ہزار 188 پاکستانی رجسٹرڈ ہیں۔ 215 پاکستانی پھنس گئے تھے جن میں سے 97 وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی کی 11 مارچ کو روانگی متوقع ہے۔
قطری حکومت کی جانب سے پھنسے پاکستانیوں کو رہائش، خوراک اور ویزا سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، تاہم وہاں صورتحال کشیدہ مگر مستحکم ہے۔ فضائی اور زمینی سرحدیں کھلی ہیں اور پی آئی اے و نجی ایئرلائنز کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ پھنسے پاکستانیوں کو کیس ٹو کیس بنیاد پر مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔زمینی راستوں کے ذریعے بھی آمد و رفت ممکن ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی مقیم ہیں، جہاں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی اور کشیدہ ہے۔ ایک ہزار 277 پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات جاری ہیں جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے راستے ٹرانزٹ ویزے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ کویت میں ایک لاکھ ایک ہزار 976 پاکستانی مقیم ہیں، صورتحال کشیدہ مگر کنٹرول میں ہے اور فضائی حدود بند ہیں۔
عمان میں 3لاکھ 82 ہزار پاکستانی مستحکم ماحول میں ہیں جبکہ لبنان میں صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ جنوبی اور مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ بھی ہوا، جس میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ جنوبی لبنان میں پاکستانیوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف ممالک میں فضائی شعبے میں خلل، کم پروازیں اور مہنگے ٹکٹ کے سبب واپسی کے متبادل محدود ہیں۔ پاکستانی شہریوں کی حفاظت، رہائش اور ہنگامی اقدامات کے لیے حقیقی وقت میں منصوبہ بندی اور وسائل کی مکمل تیاری ضروری ہے۔
