فلسطین کا بدلہ؛ برطانیہ کی یہودی آبادی میں قتل عام کا منصوبہ؛ 3 ملزمان کو سزائیں

untitled-11771081611-0-600x450.webp

برطانیہ میں یہودی برادری کے قتل عام کی سازش تیار کرنے کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دو مجرموں کو 37 اور 26 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ولید سعدوئی اور عامر حسین کو داعش سے متاثر ہوکر سیکڑوں یہودیوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں مئی 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ دونوں ملزمان نے مانچسٹر میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے خودکار اسلحہ استعمال کرمے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوں۔

انھوں نے دو اسالٹ رائفلیں، ایک خودکار پستول اور تقریباً 200 گولیاں برطانیہ میں اسمگل کرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں دونوں کا مزید اسلحہ اور کم از کم 900 گولیاں حاصل کرنے کا منصوبہ بھی تھا اور وہ منصوبے پر عمل کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔

ملزمان نے یہ انتہائی قدم اسرائیل کی غزہ میں جاری جارحیت، سفاکیت اور بربریت کے ردعمل میں اُٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سازش کیسے ناکام بنی؟

دونوں ملزمان اس بات سے بے خبر تھے جس شخص سے وہ اسلحہ خرید رہے ہیں وہ دراصل پولیس کے خفیہ آپریشن کا انڈر کور ایجنٹ تھا۔

جب اسلحہ کی ڈیل طے ہوگئی تو اُس نے پولیس کو معلومات فراہم کردیں اور ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا۔ اس طرح یہ ہولناک سازش ناکام بنا دی گئی۔

استغاثہ کے مطابق یہ حملہ اگر کامیاب ہوجاتا تو برطانوی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ثابت ہوسکتا تھا۔

یہ منصبہ گزشتہ برس دسمبر میں آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بونڈائی بیچ پر ہونے والی فائرنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہوسکتا تھا۔

ان کے خلاف مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب مانچسٹر میں ایک عبادت گاہ پر ایک الگ مہلک حملہ پیش آچکا تھا۔

ان دونوں کو پرسٹن کورٹ نے ٹرائل کے بعد مجرم قرار دیا تھا۔ 38 سال ولید سعدوئی کو کم از کم 37 سال جب کہ 52 سال عامر حسین کو کم از کم 26 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

علاوہ ازیں ولید سعدوئی کے بھائی کو دہشت گردی کے اس منصوبے سے متعلق معلومات ہونے کے باجود پولیس کو آگاہ نہ کرنے کے جرم میں 6 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا جب دسمبر میں آسٹریلیا کے ساحل بونڈائی بیچ پر یہودی تہوار کی تقریب کے دوران فائرنگ میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *